Pakistan & Kashmir

توہینِ رسول اور عالمِ اسلام

چند روز قبل جب یو ٹیوب نامی ویب سائٹ پر ایک فلم کی جھلکیاں نشر کی گئیں جس میں نبی پاکٌ کی ذاتِ پاک کو غلیظ انداز میں نشانہ بنانے کی مذموم حرکت ہوئی تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں رات بھر اُس فلم کی جھلکیاں دیکھنے کی کوشش کرتا رہا تاہم ادنیٰ مسلمان ہونے کے ناطے میں کئی روز گذر جانے کے بعد بھی خود میں وہ ہمت پیدا نہیں کر پایا اور نہ ہی کر پاؤں گا۔ اُس فلم کے بارے میں مجھے ذرائع ابلاغ (مغربی) کی بیان کردہ تفصیلات پر اکتفا کرنا پڑا۔ پتہ نہیں مجھے وہ تفصیلات بیان کرنی چاہئیں یا نہیں۔ میں اِس بارے میں خود بھی تذبذب کا شکار ہوں۔ تاہم اِس فلم کے خلاف پوری امتِ مسلمہ سراتاپا احتجاج ہے۔ لیبیااور مصر میں اِس احتجاجی سلسلہ کا آغاز ہوا۔ لیبیا کے شہر بن غازی میں مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کو نظرِ آتش کر دیا۔ آگ کی لپیٹ میں آکر لیبیا میں امریکی سفیرکرس اسٹیونز اور اُس کے کئی ساتھی ہلاک ہو گئے۔ مصر اور یمن میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کئے گئے اور آگ لگائی گئی۔ مصر، لیبیا اور یمن کے ساتھ ساتھ عراق، بنگلہ دیش، اسرائیل اورفلسطین میں بھی اِس مذموم حرکت کے خلاف امریکی سفارتخانوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔

اخباری تفصیلات کے مطابق سام باصل کے فرضی نام سے ایک مصری عیسائی(اخباری تحقیقات) جو کہ خود کو اسرائیلی یہودی اور امریکی شہری ظاہر کر رہا ہے، اُس نے رسول اکرمٌ کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کیلئے امریکی اسلام دشمنٹیری جونز ، مورس صادق (مصری عیسائی اور امریکی شہری ) اور اسٹیو کلین (عیسائی انتہا پسند)جیسے شیاطین کی پشت پناہی سے ایک فلم بنائی ہے۔ اِس فلم کی شوٹنگ اِس سال جولائی میں کی گئی ہے۔ اِس میں نبئ پاک کی ذات پر ناقابلِ بیان اور انتہائی لغو اور گھٹیا انداز میں کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اِس فلم کی تعارقی جھلکیوں کو یو ٹیوب نامی امریکی ویب سائٹ کے ذریعے دنیا کے سامنے رکھنے کے بعد سام باصل نے امریکی ذرائع ابلاغ کے اداروں کو گمنام جگہوں سے ٹیلی فون کئے اور اپنا مدعا بتایا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اُس نے اپنا تعارف دوہری شہریت رکھنے والے امریکی و اسرائیلی یہودی کے طور پر کروایا جو امریکہ میں جائداد کی خریدی و فروخت کے کاروبار سے منسلک ہے اور کہا کہ اُس فلم کے لئے خفیہ طور پر سو کے قریب یہودیوں نے پچاس لاکھ ڈالر اُسے فراہم کئے تھے۔ تاہم ہالی وڈ سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے اُس فلم کی جھلکیاں دیکھنے کے بعد اِس بات کو ماننے سے یکسر انکار کر دیا کہ یہ فلم اتنے کثیرسرمائے سے تیار ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی فلم معمولی سرمائے سے کوئی بھی عام سے گروہ یا فرد آسانی سے بنا سکتا ہے۔ دوسری طرف امریکی سرکاری وغیر سرکاری اداروں نے تحقیقات کے بعد بتایا کہ اِس نام کا کوئی آدمی جائیداد کے کاروبار یا فلمی دنیا سے منسلک نہیں ہے۔

اسرائیلی حکومت نے کسی اسرائیلی شہری کے اِس نام سے موجود ہونے کی واضح نفی کی ہے۔ اِس کے ساتھ ہی ساتھ اسرائیل بھر میں مسلمانوں کے امریکی سفارتخانے کے خلاف پر امن احتجاج کی مکمل سر پرستی کی ہے تاکہ مسلم دنیا اور یہودیوں کے خلاف پر تشدد اختلافات کی اِس مذموم سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔ میری ذاتی رائے اور تحقیقات کے مطابق یہ امریکی انتہا پسند عیسائیوں کے ایک مخصوص گروہ کے ارکان کی سازش ہے کہ اِس کے ذریعے مندرجہ ذیل مقاصد حاصل کئے جائیں:
۱۔مسلمانوں کی جانب سے دنیا بھر میں امریکی تنصیبات، اداروں اور شہریوں کے خلاف جارحانہ اور پر تشدد کاروائیاں ۔
۲۔ دنیا بھر میں مسلمانوں اور یہودیوں کو آپس میں قتال میں الجھایا جائے تاکہ دونوں مذاہب کو پر تشدد و دہشت گرد مذاہب قرار دے کر عیسائیت کو امن کا مذہب کہلوایا جائے۔
۳۔ اسرائیل اور عالمِ اسلام کے تعلقات جو قدرے بہتر ی کی طرف آرہے ہیں اُن کو نہائت ابتری کی طرف دھکیلا جائے تاکہ یہ دونوں مذاہب پھر سے آپس میں الجھ کر رہ جائیں۔
۴۔ مسلمانوں کے جذبات کو ابھار کر انھیں پُر تشدد کاروائیوں پر مجبور کیا جائے اور دنیا بھر میں مخصوص ذرائع ابلاغ کے ذریعے انھیں بحیثیتِ کل دہشت پسند و دہشت گرد کہلوایا جا سکے۔

اِس سازش کا سب سے بڑا خطرہ مسلم حکومتوں کو ہوگا جہاں پہلے ہی انتہا پسند عناصر امریکی جنگی جنون، اور انسانیت سوز مظالم کے باعث خاصی عوامی مقبولیت و امداد کے حامل ہیں اور مسلمان حکومتوں کا امریکیوں اور مغربیوں کے ساتھ تعاون اُن کو نہ صرف خاصا غیر مقبول بلکہ عوام غم و غصے کا فطری نشانہ بناتا ہے۔ اِس کی مثال سعودی عرب، عمان، اردن، پاکستان وغیرہ کے سیاسی حالات کے بغور مطالعے سے واضع ہوتا ہے۔ انھی ممالک کو اپنی عوام کے جانب سے شدید ردِ عمل کا خوف بھی ہے اور اگر اسلام دشمنی کی ایسی سازشوں کا فوری قلع قمع نہ کیا گیا تو امریکہ و یورپ کو تو شائد خاطر خواہ نقصان نہ ہو مگر اسلامی دنیا ایک بار پھر آگ اور بارود میں لپٹ جائے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *